Grameen Bank At A Glance - Page 2

مندرجہ ذیل مختلف نکات میں گرامین بینک کا ایک جائزہ:-

  1. غریب لوگ اس کے مالک ہیں

    گرامین بینک کا آغاز بنگلہ دیش کے ایک گاؤں جوبرہ 1976 ئ میں ہوا۔1983 ئ میں اسے ایک قانونی حیثیت دیتے ہوئے ایک فارمل بینک میں تبدیل کر دیا گیا اس بینک کے دائرہ کار کو کامیابی سے بڑھانے والے غریب لوگ ہیں جو کہ اسی کے قرضہ سے مستفید ہو نے والوں میں اکثریت عورتوں کی ہے ۔ اس بینک کی ایکٹویٹی (Equity) کا تناسب %5 حکومت کے پاس ہے جبکہ %95 تمام لوگ اس کے مالک ہیں۔

  2. نہ کوئی ضمانت ، نہ ہی زر رہن اور نہ کوئی قانونی بانڈ

    چھوٹے قرضہ جات پر کسی قسم کی کوئی ضمانت نہیں ہوئی نہ ہی زر رہن نہ کوئی قنونی بانڈ وغیرہ دینا پڑتا ہے چونکہ بینک اپنے گاہکوں کو واپس ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں کسی کو رٹ نہیں لے جانا چاہتا یہی وجہ ہے کہ وہ قرضہ دیتے وقت قرض خواہ سے کوئی ضمانت نہیں مانگتا۔

    قرض کی ادائیگی قرضدار پر ہے۔ اور بینک کا کاروبار خوش اسلوبی سے چلنے کی بنیادی وجہ تمام قرض دہندہ کی ذمہ دارانہ روش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرض کی ادائیگی میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوتا۔ حالانکہ 97% عورتیں بینک کی قرض دہندہ ہیں اور قرض کی واپسی کسی صورت میں اجتماعی ذمہ داری نہیں ہر قرض دہندہ خود ذمہ دار ہے۔

  3. عورتوں کا تناسب %97

    بینک سے مستفید ہونے والوں میں عورتوں کا تناسب %97 ہے۔

  4. برانچیں

    گرامین بینک کی برانچیں 2,556 ہیں اور یہ 84,388 گاؤں میں کام کر رہا ہے جبکہ اس کے ملازمین کی کُل تعداد 23,445 ہے۔

  5. 451.58 بلین ٹکہ لوگوں میں قرض ادا کیا

    اس بینک نے اب تک 451.58 بلین ٹکہ لوگوں میں قرض ادا کیا یعنی 8.07 بلین یو ایس ڈالر واپس بنک کو ادا کیے جا چکے ہیں۔

    مگر ابھی تک 49.97 بلین ٹکہ ( 724.04 ملین ڈالر ) قابلِ واپسی ہیں ۔ ماہانہ ادا قرض 5.08 بلین ٹکہ یعنی 58.28 ملین ڈالر ہے اور یہ مدت 8 جون 2009ئ کی ہے 2009 ئ میں بینک نے 75 بلین ٹکہ ادا قرض کیلئے مختص کیا ( یعنی 1091 ملین ڈالر ) یعنی ہر ماہ 6.25 بلین ٹکہ ( 90.92 بلین ڈالر) اور اس سال کی قبل ادائیگی قرضہ کمی کی رقم 55 بلین ٹکہ کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

  6. ری کوری کا تناسب

    ری کوری کا تناسب 98% ہے۔

  7. قرضہ کا اجرا 100% بینک کی جمع شدہ رقم سے کیا گیا ۔

    گرامین بینک تمام قابل واپسی قرضہ کا اجراء بینک میں جمع شدہ سرمایہ سے کرتا ہے ۔ جو کہ انہی قرض خواہ لوگو ں کی جمع شدہ رقومات ہوتی ہیں۔ بینک کا سرمایہ جو کہ قرض خواہوں ہی بینک میں جمع کرتے ہیں اُسی کا 136% قرض قابل واپسی ہے۔ اگر ہم ان دونوں کو اکٹھا کریں تو یہ رقم جو کہ لوگ خود ہی بینک میں رقم جمع رکھتے ہیں اُسی میں 149% قرضہ مال واپسی ہے۔

  8. نہ امداد اور نہ ہی کسی سے کوئی قرض

    1995ئ میں گرامین بینک نے یہ فیصلہ کیا کہ کسی سے بھی امداد نہیں لی جائے گی۔ بعد ازاں کسی ڈونر سے کوئی مدد نہیں مانگی گئی۔ آخری قسط جو کہ بینک کو دی گئی وہ 1998 ئ میں موصول ہوئی جو کہ جاری ہو چکی تھی۔ گرامین بینک اب کسی سے بھی کوئی امداد نہیں لے رہا نہ ہی کسی سے کوئی قرض کی درخواست کی گئی اور موجودہ سرمایہ کو ہی بہتر انداز سے منظم کر کے قرض خواہوں کی ضرورتوں کو پورا رہا ہے۔

  9. منافع

    منافع جب سے (GB) کی بنیاد رکھی گئی اس نے منافع کمایا سوائے 1991-1983 اور 1992 کے ہر سال اپنی آڈٹ رپورٹ کرتی ہیں اور تمام رپورٹس CD پر اور ویب سائٹ www.grameen.com پر موجود ہیں ۔

  10. آمدن اور خرچہ

    2008 میں گرامین نے 12 بلین ٹکہ منافع کمایا جو کہ 174.67ملین ڈالر بنتا ہے ۔ جبکہ اس کے اخراجات 10.69 بلین ٹکہ (155.62ملین ڈالر ) رہا۔ جمع شدہ رقوم پر منافع کی حد میں 5.46 بلین ٹکہ ادا کیے جو کہ کل اخراجات کا 51% بنتا ہے جبکہ تنخواہ ، الاؤنس، پینشن کی مدد میں 2.96 بلین ٹکہ ادا کئے جو کہ 28% بنا اس طرح 2008 ئ میں اس بینک نے 1305.00 ملین ٹکہ اصل منافع کمایا۔

  11. شٹر ہولڈرز کا منافع 30% برائے 2008ئ

    گرامین بینک کے اپنے شیئر ہولڈرز کیلئے 2008 ئ منافع 30% کا اعلان کیا جو کہ کسی بھی بنگلہ دیشی بینک سے زیادہ ہے جبکہ 2006 ئ میں (GB) نے سب سے زیادہ یعنی 100% منافع دیا۔ جو کہ ایک ریکارڈ ہے اور یہ شرح منافع شئیر ہولڈرز کو بہت راغب کرتی ہے اور 96% سیئر ہولڈر ہی اسی بینک سے رقضہ بھی حاصل کرتا ہے۔

  12. کمتر شرح سود

    حکومت بنگلہ دیش نے چھوٹے قرضے کا جراء کرنے والے بینکوں کیلئے شرح سود 11% مقرر کر رکھا ہے جو کہ 22% تک پہنچ جاتا ہ جبکہ گرامین بینک نے اپنے قرض خواہاں کیلئے بہت کم شرح سود بھی جو کہ حکومت سے مقرر شرح سے بھی کم ہے ۔

    (GB) نے شرح سود 4 حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔کاروباری سرمایہ پر شرح سود 20% میں تعمیر مکان کیلئے شرح سود 8% اور طالبعلموں کیلئے شرح سود 5% ھورپر بھکاریوں کیلئے قرض پر 0% شرح سود لیتا ہے ۔ تو اُسے مزید وضاحت کیلئے اگر کوئی شخص کاروبار کیلئے 1000 ٹکہ قرض لیتا ہے تو اسے ساری رقم 1100 ٹکہ ایک سال میں واپس کرناہو گی گویا اصل رقم 1000 100+ سود کل قابل واپسی 1100ٹکہ مدت ایک سال ۔

  13. جمع شدہ رقوم پر شرح سود

    گرامین بینک نے سرمایہ کے حصول کیلئے کم از کم شرح سود 8.5% جبکہ زیادہ سے زیادہ 12% مقرر کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ سرمایہ جمع کرانے میں رغبت رکھتے ہیں۔