Is Grameen Bank Different? - Page 6

گرامین بنکاری روائتی بنکاری کے طریقے سے بلکل مختلف یا متضاد ہے۔ روائتی بینک اس اصول پر کار فر ما ہو تے ہیں کہ "جتنا دو گے اتنا لو گے"دو سرے الفاظ میں اگر اآپ کے پاس تھو ڑی یا کوئی بھی رقم نہیں تو آ پ کو کچھ نہیں ملے گا۔ اس کے نتیجہ کے طور پر دنیا کی تقریبا نصف یا نصف سے زائد آبادی روائتی بینکوں کی معاشی سہولیات سے محروم ہے۔ عمومی بنکاری کا دارومدار سودی {گروی} نظام پر ہے اور گرامین سسٹم سودی{گروی} نظام سے پاک ہے۔

گرامین بنکاری اس یقین پر محیط ہے کہ فائدہ یا نفع انسانی حق ہے اور یہ ایک ایسا نظام وضع کر تے ہیں جس میں سب سے غریب فرد کو قرض دینے کیلیے تر جیح دی جاتی ہے گرامین بینکاری کی بنیاد کسی فرد کی دولت یا جائیداد{ملکیت}پر قبضہ کر نے پر نہیں بلکہ فرد کی قابلیت حاصل کر نے پر ہے۔ گرامین اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سب انسان بشمول غریب ترین بہترین صلاحیتوں سے نواز ے گئے ہیں۔

عمومی بینک یہ دیکھتے ہیں کہ ایک فرد کی ملکیت میں کیا کچھ شامل ہے جبکہ گرامین کسی فرد کی نہ تشخیص شدہ قابلیت پر نظر رکھتے ہیں۔

عمومی بنک امیر لوگوں کی ملکیت ہیں جبکہ گرامین بینک کی مالک ایک غریب عو رت ہے۔

روائتی بینکوں کا اولین مقصد منافع کو بڑھا نا ہے جبکہ گرامین بینک کا اولین مقصد غریبوں کو معاشی خد مات فراہم کرنا ہے خاص طور پر اس کا مقصد غریب عورتوں اور دوسرے غریب طبقے کی مدد ہے تاکہ وہ غریب کا مقابلہ کر سکیں اور معاشی طور پر محفوظ رہیں۔ یہ ایک مشترکہ مقصد ہے جو معا شی اور معاشرتی نقطہ نظر سے مل کر بنا ہے۔

عمومی بینک مردوں پر اپنی توجہ مر کوز رکھتے ہیں جبکہ گرامین بینک عو رتوں کو فو قیت دیتے ہیں۔ گرامین بینک کی 97فیصد قرض لینے والی عور تیں ہیں ۔گرامین بینک غریب عورتوں کا ان کے خاندان میں رتبہ بڑھانے کےلیے،انہیں جائیداد کی ملکیت دینے کے لیے کام کر تے ہیں۔ یہ اس بات کی یقین دہانی کر تے ہیں کہ گھر وں کی ملکیت گرامین بینک سے قرض لینے والی عورتوں کے نام ہی رہے۔

گرامین بینک دہی علاقوں میں واقع ہیں جبکہ روائتی بینک پوری کو شش کر تے ہیں کہ وہ جتنا ممکن ہو شہروں اور کار و باری ڈسٹرکٹ کے قریب ہوں۔ گرامین بینک کا پہلا اصول یہ ہے کہ لو گ بینک میں نہ آئیں بلکہ بینک لو گوں کے پاس جائے گرامین بینک کا 23،445 افراد پر مشتمل سٹاف 84،388 بنگلادیشی دہی علاقوں میں 7۰87 ملین افراد کو ان کے دروازے پر بینکاری کی سہولیات ہر ہفتے مہیا کر تا ہے۔ گرامین بینکوں کے قرض کی ادائیگی مکمل قرضے کو ہفتہ وار چھو ٹی چھو ٹی رقوم میں تقسیم کر کےآسان بنا دی گئی ہے۔ اس طرح کارو بار کر نے کا مطلب یہ ہے کہ بینک کے کر نے کےلیے بہت سا کام ہے لیکن یہ قرض داروں کے لیے بہت آسان ہے۔

گرامین طریقہ کار میں قرض دار اور قرض دینے والے کے درمیان کوئی قانو نی دستاویز نہیں ہو تی روائتی بینکاری کے بر عکس اس میں کوئی ایسی شِق نہیں جس کے تحت قرض دار کو قرض کی واپسی کےلیے عدالت میں لے جا یا جائے کسی بیرو نی دباو کی وجہ سے معاہدے میں توسیع کر نے کے اس طریقی کار {گرامین} میں کوئی گنجائش نہیں۔

روائتی بینکار ی نظام میں اگر قرض دار اپنے طے شدہ قرض کی واپسی کے وقت سے زیادہ عرصہ لے تو اُسے سزا دی جا تی ہے اور ان قرض داروں کو ڈیفالٹر کہا جاتا ہے۔گرامین بینکاری نظام میں ایسے قرض داروں کا قرضہ دوبارہ ری شیڈیول کر دیا جاتا ہے تا کہ وہ آسانی سے قرض ادا کر سکیں اور انہیں یہ احساس نہیں دلا یا جاتاکہ انہوں نے کوئی غلط کام کیا ہے{کیو نکہ حقیقت میں ان قرض داروں نے کو ئی غلط کام نہیں کیا ہو تا}۔

روائتی بینک کا کوئی کلائنٹ اگر مشکل میں پھنس جائے تو بنک اپنے پیسوں کی ادائیگی کے بارے میں پریشان ہو جاتا ہے اس کے بر عکس گرامین بینک اس طرح کی صو رتحال میں اپنے کلائنٹ کی مددکےلیے ہر ممکن کوشش کر تا ہے اور اس متاثرہ عو رت کی بحالی کےلیے اور اسے مشکلات سے نکالنےکے لیے ہر ممکن طریقے سے مدد دیتا ہے۔

روائتی بینک اس وقت تک سود لگانا بند نہیں کر تے جب تک کسی خسارے میں جانے والے قرض کے بارے میں کوئی مخصوص بات نہ طے کر لی جائے قرض کے عرصے کے حساب سے اصل لیے گئے قرض پر سود عائد کیا جا تا ہے۔گرامین بنکاری میں کسی بھی صورت میں سود کی رقم اصل سے تجاوز نہیں کر سکتی۔ جب سود کی رقم اصل رقم کے برابر ہو جائے تو اس کے بعد کوئی مزید سود عائد نہیں کیا جاتا۔