Is Grameen Bank Different? - Page 8

مفرو ضہ یہ ہے کہ اگر انفرادی طور پر قرض لینے والوں کی رقم تک رسائی ممکن بنائی جائے تو وہ پیسے کمانے کی سر گرمیوں کی شناخت کر سکتے ہیں اور ان کاموں میں مصروف ہو سکتے ہیں سادہ پیشے جیسے چو نا بنانا ، برتنوں کا کارو بار ، بُنانی اور کپڑوں کی سلاھی ، سٹور کر نا اور ان کی مارکیٹنگ اور ذرائع آمد و رفت کی سہو لیات وغیرہ کا فراہم کر نا۔ شرو عاتی طور پر عورتوں کو اس سکیم میں برا بری فراہم کی گئی اور وہ نہ صرف قابل اعتبار قرضدار ثابت ہوئیں بلکہ انہوں نے اس کام میں معاونت بھی فراہم کی اور اس کے نتیجے کے طور پر انہوں نے اپنا معاشرتی مقام بلند کیا۔ اپنے شو ہروں پر اُن کا انحصار کم ہو ا۔ انہوں نے اپنے گھروں کو بہتر بنایا اور اپنے بچوں کی غذائی ضرو ریات کو بھی صحیح طریقے سے پو را کیا۔ آج اس بنک کی 90فیصد قرض دار خواتین ہیں۔

گرا مین بینک کے آپریشن میں اعلی نظم و ضبط ، معاونت اور خدمات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں اور ان باتوں کو یقینی بنانے کےلیے سائیکل سوار بنکار اپنے برانچ یونٹ میں معزز اتھارٹی کے ہمراہ کام کرتے ہیں۔ قرض داروں کا چناو اور بینک ممبران کا ان کے پراجیکٹس طے کر نا ۔ گروپ کا ان قرض داروں پر دباو اور قرض کی واپسی سکیم 50ہفتہ وار اقساط پر مشتمل ہو تی ہے ۔جیسے غریبوں کیلیے ڈیزائن کردہ دیسی بنکاری نظام میں استعمال کیا جاتا ہے۔پیسوں کی بچت کی حو صلہ افزائی کی جاتی ہےاس نظام کے تحت کسی گروپ کو 5فیصد قرض وقتی طور پر دیا جا سکتا ہے اور ہر ہفتے فنڈ میں سے 5فیصد دیا جا سکتا ہے۔

اس بینچ کی کامیابی ثابت کر تی ہے کہ غریبوں کو قرض دینے پر جو اعتراضات ہیں انہیں کم کیا جا سکتا ہے ۔ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ان کا دھیان رکھا جائے اور معاونت فراہم کی جائے۔پہلے یہ سو چا جا چکا ہے کہ غریب شائد اچھے روزگار کے مواقع تلاش نہ کر سکیں۔ لیکن اس کے بر عکس گرامین بینک سے قرض لینےوالے غریب لوگوں نے ایسے مواقع تلاش کیے ہیں اور قرض واپس کرنے کی شرح 97فیصد تک ہے سو چا جا رہا تھا کہ غریب دہی عو رتیں بنکاری کے لیے خاص طور پر مناسب نہیں ۔دراصل انہوں نے 1992ء کے اوائل میں 94 فیصد تک قرض حاصل کئے۔یہ سوچ رہی ہے کہ غریب لو گ بچت نہیں کر سکتےدراصل گروپ بچت اتنی ہی کامیاب ثابت ہو ئی ہے جتنا کہ گروپ قرض ۔یہ سو چا جا رہا تھا کہ دہی ساختہ بینک مکمل طور پر ناکام ثابت ہو گالیکن گرامین بینک تیزی سے بڑھنے کے قابل ہو ا ہے در حقیقت سال 1980ء میں قرض داردوں کی تعداد 15000 تھی اور یہ تعداد سال 1984ء میں بڑھ کر 100،000 ہو گی ہے۔ سال 1998ء کے اختتام پر اس بینک کی شاخیں جو کہ 1128 تھیں اور ان کے ممبران کی تعداد 2۰34ملین تھی {جن میں سے 2۰24ملین عورتیں تھیں}جو 38،957گاوںمیں رہائش پذیر تھیں66،581گروپ سنٹر مو جود ہیں۔جن میں سے 33،126 عورتیں ہیں گروپ بچت 7،853ملین ٹکا تک پہنچ چکی ہے {تقریب162USDملین}جن میں سے7300ملین ٹکا عورتوں نے بچایا ہے۔ {تقریبا152USDملین}۔

یہ اندازہ لگا یا گیا ہے کہ گرا مین بینک ممبر کے گھر کا اوسط خرچ کنٹرول گاوں کے ٹارگٹ گروپ سے 50فیصد زیادہ اور ٹارگٹ گروپ سے25فیصد زیادہ ہے جو کہ گرامین بینک گاوں کےممبران نہیں ہیں سب سے زیادہ فائدہ بے زمین لو گوں نے اٹھایا اور ان کے بعد بڑی تعداد زمینداروں کی ہے ۔ اس طرح غربت کی حد سے نیچے زندگی گزارنے والے گرامین بینک ممبران کی تعداد میں تیزی سے کمی واقع ہو ہی ہے کاشتکاری سے متعلقہ مزدوری[ زمینداری کی مزدوری کر نے والوں کو کمتر تصور کیا جاتاہے] سے اپنے کاروبار کی طرف کافی رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔پیشہ کی تبدیلی کے اس رحجان سے دوسرے زمیندارانہ دھیاڑی کے مزدوروں پر بلا واسطہ طور پر اچھا اثر پڑا ہے جسےایک تخلیقی لو کل قدم کے طور پر شروع کیا گیا تھا "اُمید کی ایک چھو ٹی کرن"اب بڑھ کر ایسے مقام تک پہنچ گئی ہے کہ جس سے وہ غربت پر اثر انداز ہو رہی ہے اور قومی سطح پر غربت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔