You've got to find what you love (Urdu)

"آپ کو اپنا جنون تلاش کرنا ہوگا" کہانا ہے جوبز کا

آج میں دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں سے ایک یونیورسٹی سے آپ کے کانووکیشن کے دن آپ کے ساتھ شامل ہونے پر عزت اور فخر محسوس کر رہا ہوں ۔ میں نے کبھی کالج سے گریجویشن نہیں کیا۔ میں آپکو سچ بتاوں گا میں آج کالج گریجویشن سے زیادہ قریب ہوں آج میں آپ کو اپنی زندگی سے تین کہانیاں سناوں گا ۔ ہاں کوئی بڑی بات نہیں صرف تین کہانیاں ۔

پہلی کہانی نقطے جوڑنے کے بارے میں ہے ۔

میں پہلے چھ ماہ کے بعد ریڈ کالج سے نکال دیا گیا اور پھر مکمل طور پر کالج چھوڑنے سے پہلے نکالے گئے طالب علم کے طور پر اٹھارہ مہینے میں نے وہاں گزارے تو مجھے باہر کیوں نکالا گیا؟

اس سب کی شروعات میری پیدائش سے پہلے ہوئی۔ میری طبعی ماں ایک نوجوان کنواری کالج کی گریجویٹ طالبہ تھی اور اُس نے مجھے گود لینے کا فیصلہ کیا اس نے بہت شدت سے محسوس کیا کہ مجھ کو گریجویٹس کو ہی گود لینا چاہیے تو میری پیدائش سے پہلے ہی سب کچھ طے ہو چکا تحا کہ مجھے ایک وکیل اور انکی بیوی گود لیں گے۔جب میری پیدائش کے آخری لمحے تھے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ انہیں ایک بچی چاہیے تو میرے والدین جو انتظار کرنے والوں کی فہرست میں شامل تھے انہیں آدھی رات کو فون کر کے پوچھا گیا "ہمارے پاس غیر متوقع طور پر ایک چھوٹا بچہ پیدا ہوا ہے کیا آپ اُسے گود لینا چاہیں گے ؟" انہوں نے کہا" یقیناً ضرور" میری طبعی ماں کو بعد میں پتہ چلا کہ مجھے گود لینے والی ماں نے کبھی گریجویشن کیا ہی نہیں اور یہ کہ میرے والد نے کبھی ہائی سکول بھی پاس نہیں کیا ۔ تو میری طبعی ماں نے فائنل گود لینے والے کاغذات پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ۔ وہ [میری طبعی ما] کچھ ماہ انکار کرنے کے بعد اس وعدے پر راضی ہو گئی کہ مجھے گود لینے والے مجھے ضرور کسی روز کالج بھیجیں گے ۔

اور 17 سال بعد میں واقعی کالج گیا ۔لیکن میں نے ایسا مہنگا کالج منتخب کیا جیسا کہ سٹین فورڈ کالج اور میرے ماہانہ آمدنی والے والدین کی ساری بچت میری کالج فیس میں نکل جاتی ۔ 6 ماہ گزرنے کے بعد مجھے اس کی کوئی قدر یا اہمیت نظر نہ آئی۔ مجھے اس بارے میں کچھ اندازہ نہیں تھا کہ میں اپنی زندگی کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہوں اور نہ ہی مجھے اس بات کا کوئی انداذہ تھا کہ میرے مقاصد کے حصول کےلیے کالج میری کیا مدد کر سکتا ہے اور میں اپنے تمام دولت جو میری والدین نے بچا کر رکھی تھی استعمال کر رہا تھا۔ تو میں نے کالج کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور مجھے اس بات کا یقین تھا کہ سب ٹھیک ہو رہا ہے ۔ فیصلہ کرتے وقت مجھے کچھ ڈر لگا لیکن اب مجھے پیچھے دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ میری زندگی کے بہترین فیصلوں میں سے ایک تھا۔ جس لمحے میں نے سب کچھ چھوڑا تو میں ان سب جماعتوں کو چھوڑ سکتا تھا جو مجھے پسند نہ تھیں اور ان سب جماعتوں میں جا سکتا تھا جو مجھے دلچسپ محسوس ہوتی تھیں۔

میں بلکل بھی رومانوئی نہ تھا اور نہ ہی میرے پاس ایسا کوئی سجا سجایا کمرہ تھا تو میں دوستوں کے کمروں میں فرش پر سوتا تھا ۔ میں کوک کی بوتلیں 5سینٹ کے ڈیپازٹ کے لیے واپس کرتا تھا تا کہ ان پیسوں سے خوراک [کھانا] وغیرہ خرید سکوں ۔ اور میں ہر اتوار کی رات کو قصبے سے 7میل دور پیدل سفر کرتا تھا تا کہ ہری کرشنا کے مندر میں ہفتے میں ایک مرتبہ اچھا کھانا کھا سکوں ۔ اور مجھے اس سے بہت پیار تھااور جسے کے پیچھے میں اپنے وجدان اور تجسس کے ساتھ ٹھوکر کھا کر چل رہا تھا وہ بے فائدہ ثابت ہوا۔ میں آپکو ایک مثال سے سمجھاتا ہوں :

ریڈ کالج اس وقت ملک میں سب سے بہترین فن خطاطی پیش کر رہا تھا۔ پورے کیمپس میں ہر پوسٹر پر لیبل خوبصورتی سے خطاطی کیا گیا تھا۔ کیونکہ میں نے کالج چھوڑ دیا تھا اور مجھے باقاعدگی سے کلاس میں جانے کی پابندی نہیں تھی تو میں نے فن خطاطی سیکھنے کا فیصلہ کیا میں نے سیرف اور سین سیرف ٹائپ فیس کے بارے میں کسی طرح فن خطاطی کو اور بہتر بنایا جاسکتا ہے یہ فن خوبصورت ۔ تاریخی اور فنکاری طور پر محیط تھا اور سائنس اس تک رسائی حاصل نہیں کر سکتی تھی اور مجھے یہ بہت پر کشش لگا۔

مجھے ان میں سے کوئی کام بھی اپنی عملی زندگی میں کرنے کی توقع نہیں تھی ۔لیکن 10 سال بعد جب ہم پیلا مکین توش کمپیوٹر ڈیزان کر رہے تھے تو وہ سارا میرے ذہن میں تازہ ہو گیا۔ اور ہم نے اس سب کو میک مین ڈیزاین کر دیا۔ یہ خوبصورت ٹائپو گرافی کے ساتھ پہلا کمپیوٹر تھا اگر میں کبھی کالج میں وہ کورس نہ کرتا تو شاید میک کو کثیر اشکالی فونٹ نہ ملتے اور کیونکہ صرف ونڈو میک کو کاپی کرتا ہے تو بہت ممکن تھا کہ ذاتی کمپیوٹر میں یہ نہ ہوتا۔ اگر میں کبھی کالج نہ چھوڑتا تو شاید کبھی اس خطاطی کی کلاس میں نہ جاتا اور شاید تب ذاتی کمپیوٹروں میں موجود ہ ٹائپو گرافی نہ ہوتی ۔ یقیناً نقظے جوڑنا ناممکن تھا لیکن دس سال بعد پیچھے دیکھنا بہت بہت واضع تھا۔

دوبارہ آپ آگے دیکھتے ہوئے نقطے نہیں ملا سکتے آپ صرف پیچھے دیکھتے ہوئے انہیں ملا سکتے ہیں ۔تو آ پ کو اعتبار ہوناچاہیے کہ یہ نقطے کسی بھی طرح آپ کے مستقبل سے جُڑ جاہیں گے۔آپ کو اپنے ہنر، قسمت، زندگی، کرما یا کسی بھی شے پر اعتبار کرنا ہی ہوتا ہے ۔ اسی سوچ نے مجھے کبھی شرمندہ نہیں ہونے دیا اور اس سوچ نے میری زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے ۔