You've got to find what you love (Urdu) - Page 3

میری تیسری کہانی موت کے بارے میں ہے ۔

جب میں 17 سال کا تھا تو میں نے کچھ اس طرح کا قول پڑحا تھا "اگر آپ اپنے دن کو آخری دن کے طور پر گزار یں تو کسی نہ کسی دن آپ ضرور درست ہوں گے" اس بات نے مجھ پر بہت اثر ڈالا اور اس دن سے پچھلے 33 برس سے میں ہر صبح شیشے میں دیکھتا ہوں اور خود سے پوچھتا ہوں "کیا آج میری زندگی کاآخری دن ہے ۔ کیا آ ج میں جو کرنے جا رہا ہوں میں وہی کرنا چاہتا ہوں؟ " اور جب کبھی مجھے خود سے نفی میں جواب ملے تو مجھے پتہ چل جاتا ہے کہ مجھے کچھ بدلنا ہو گا ۔

یاد رکھنا کے میں جلد مرنے والا ہوں بہت اہم ہے او ریہ مجھے زندگی کے بڑے انتخاب کرنے میں مدد دیتا ہے کیونکہ تقریباً ہر چیز تمام بیرونی توقعات، تمام غرور،س شرمندگی کا سارا ڈر یا ہار یہ سب چیزیں موت کے سامنے ختم ہو جاتی ہیں اور صرف وہ باقی رہ جاتا ہے جو حقیقت میں اہم ہے ۔ یہ یاد رکھنا کے آپ مرنے والے ہو اپنی ہار کے بارے میں سوچنے کو روکنے کا بہترین طریقہ ہے ۔ آپ پہلے سے ہی ننگے ہو تو اپنے دل کی بات نہ سننے کی کوئی وجہ نہیں ۔

تقریباً ایک سال پہلے مجھے کینسر بتایا گیا میں نے صبح کے 7:30پر سکین کروایا اور اس میں میرے پتے میں واضح طور پر رسولی نظر آئی ۔ اس سے پہلے مجھے یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ پتہ کیا ہوتا ہے ۔ ڈاکٹروں نے مجھے بتایا یہ کینسر کی ایک ایسی قسم ہے جو ناقابل علاج ہے اور یہ کہ میرے بارے میں 3 سے 6 مہینے سے زیادہ زندگی رہنے کی توقع نہیں ہے میرے ڈاکٹر نے مجھے گھر جا کر اپنے معاملات نبٹانے کا مشورہ دیا جو ڈاکٹر کی طرف سے موت کےلیے تیار ہونے کا طریقہ تھا ا سکا مطلب ہے کہ اپنے بچوں کو وہ ساری باتیں بتا دیں جو شاید آپ نے اگلے دس سالوں میں انہیں بتانی تھیں ۔ اس کا ممکنہ حد تک آپکے خاندان کےلیے آسان ہو۔اس کا مطلب ہے سب کو خدا حافظ کہ دیں ۔

میں پورا دن اس انکشاف کے ساتھ رہا اس شام بعد میں میری بائیوبسی کی گئی جس میں انہوں نے ایک اینڈوسکوپ میری گردن سے میرے جسم میں داخل کی اور میرے پیٹ کے راستے اسے میری آنتوں میں داخل کیا گیا میرے پتے میں ایک سوئی داخل کی گئی اور رسولی کے کچھ سیل حاصل کیے گئے مجھے بہت افسوس تھا ۔لیکن میری بیوی جو وہاں موجود تھی نے مجھے بتایا کہ جب ڈاکٹرں نے رسولی کے نمونوں کا جائزہ لیا تو وہ چیخنے لگے کیونکہ یہ ایک بہت ہی کم ملنے والا پتے کا کینسر تھا جو سرجرری کے ذریعے قابل علاج ہے میں نے اپنی سرجری کروائی اور اب میں ٹھیک ہوں ۔

میں نے اس سے زیادہ قریب موت کا نظار ا نہیں کیا اور مجھے اُمید ہے اگلے چند عشروں کےلیے یہ موت کا قریب ترین منظر ہو گا ۔ میں اس سے بچ نکلا اور اب پہلے سے زیادہ یقین کے ساتھ آپکو کہ سکتا ہوں کہ موت ایک مفید عقلی تصور ہے :

کوئی بھی مرنا نہیں چاہتا وہ لوگ بھی مرنا نہیں چاہتے تو مرنے کے بعد جنت میں جانے کے خواہش مند ہیں اور موت وہ منزل ہے جسے ہم سب شئیر کرتے ہیں کوئی بھی کبھی موت سے بچ نہیں سکا اور اسے ایسا ہی ہونا چائییے کیونکہ موت زندگی کی اکیلی بہترین تخلیق ہے ۔ یہ زندگی کو تبدیل کرنے والا ایجنٹ ہے ۔ یہ نئے کی جگہ بنانے کےلیے پرانے کو راستے سے ہٹا دیتی ہے اس وقت آپ نئے ہیں لیکن آج سے زیادہ عرصے تک آپ نئے نہیں رہیں گے آپ آہستہ آہستہ پرانے ہو جائیں گے اور پھر راستے سے ہٹا دئیے جائیں گے ۔ انتے ڈرامائی ہونے پر افسوس ہے لیکن یہ بلکل سچ ہے ۔

آپکا وقت محدود ہے تو اسے کسی دوسرے کی زندگی گزارنے میں ضائع مت کریں ۔ آپ ادویات کے قیدی نہیں ۔ جو دوسرے لوگوں کی سوچ کے نتیجے میں زندہ ہیں ۔ دوسروں کی رائے کی آواز کواپنے اندر کی آواز کو مارنے یا ڈبونے کی اجازت نہ دیں ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ کے اندر اپنے دل اور وجدان کی بات سننے اور ماننے کا حوصلہ [ہمت] ہونا چائیے وہ پہلے سے جانتے ہیں کہ آپ سچ میں کیا بننا چاہتے ہیں ۔ باقی ماندہ ہر شے ثانوی حیثیت رکھتی ہے ۔

جب میں جوان تھاتو پوری دنیا کی فہرست کے نام سے ایک حیرت انگیز اشاعت ہوئی جو میری نسل کی ویک بائبل تھی۔ اسے یہاں سے قریب ہی منلوپارک کے ایک شخص سٹیورڈ برینڈ نے تخلیق کیا تھا اور اس شخص نے اس بائبل کو اپنے شاعرانہ انداز سے زندگی دے دی ۔ یہ 1960ء کے اواخر میں ہوا اس وقت ذاتی کمپیوٹر اور ڈیسک ٹاپ پبلیشنگ نہیں ہوئی تھی تو اے سارے کا سارا ٹائپ رائٹر، قینچی اور تقطیب نما کیمرے سے بنایا گیا۔ وہ اس وقت کا غذی گوگل تھا اصل گوگل کے آنے سے 35سال پہلے یہ انتہائی مثالی اور صاف ستھرے اوزاروں اور چھوٹی عظیم باتوں سے پُر تھا۔

سٹیورڈ اور اس کی ٹیم نے پوری دنیا کی فہرست میں بہت سے مسائل اٹھائے اور پھر جب وہ چلنا شروع ہو گئی تو انہوں نے اصل مدع بیان کیا یہ 1970ء کے درمیانی عرصہ تھااور اس وقت میں آپکی عمر کا تھا ان کے فائنل مدعا کے پیچھے ورق پر کسی دیہاتی سڑک کے صبح کے منظر کی تصویر تھی ایسی تصویر جو شاید گاڑی پر سیر کرتے ہوئے نظر آئے اگر آپ مہم جو ہوں ۔ اس کے نیچے کچھ اس طرح کے الفاظ لکھے تھے "بھوکے رہیں ، بیوقوف رہیں " یہ ان کا الوداعیہ پیغام تھا جب وہ سائن آف ہوتے تھے ۔ بھوکے رہو۔ بیوقوف رہو۔ اور میں ہمیشہ اپنے لئے اسکی خواہش رکھتا تھا اور اب جبکہ آپ نے نیا سفر شروع کرنے کےلیے گریجویٹ کر لیا ہے میں آپکے لئے وہی خواہش کرتا ہوں ۔

بھوکے رہو۔بیوقوف رہو

آپ سب کا بہت شکریہ


About Steve Jobs:
Steve Jobs was born on February 24, 1955 in San Francisco. He was an orphan and was adopted by a local couple, Paul and Clara Jobs, who lived south of the Bay Area — in what would later be known as Silicon Valley.

"Innovation distinguishes between a leader and a follower." - Steve Jobs

"My model for business is The Beatles: They were four guys that kept each other's negative tendencies in check; they balanced each other. And the total was greater than the sum of the parts. Great things in business are not done by one person, they are done by a team of people." - Steve Jobs